منگل 16 جون 2026 - 16:49
محرم کی پہلی شب اور پہلے دن کے اعمال

حوزہ / محرم کے پہلے دن اور رات میں خصوصی نمازیں، دعا اور تلاوتِ قرآن کے ساتھ ساتھ شب بیداری، اسی طرح نئے سال کے پہلے دن کا روزہ اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول دعا پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ روایات میں ان ایام کے روزے اور عبادت کی بہت زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے اور محرم الحرام کے پہلے عشرے کا روزہ بھی مستحب قرار دیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کے غم کے مہینے اور سید و سردارِ شہداء حضرت اباعبداللہ الحسین علیہ السلام اور ان کے وفادار ساتھیوں کی سرزمین کربلا میں شہادت کے ایام کے موقع پر حوزہ نیوز کے قارئین کی خدمت میں محرم کے پہلے دن اور رات کے اعمال پیش کیے جا رہے ہیں:

پہلی محرم کی رات

سید ابن طاووس نے کتاب اقبال میں اس رات کی چند نمازیں ذکر فرمائی ہیں :

  1. سورکعت نماز، جس کی ہر رکعت میں سورۂ الحمد اور سورۂ توحید پڑھے :
  2. دورکعت نماز، جس کی پہلی رکعت میں س سورۂ الحمد کے بعد سورۂ انعام اور دوسری رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد سورۂ یٰسین پڑھے :
  3. دو رکعت نماز، جس کی ہر رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورۂ توحید (قُل هُوَاللّهُ اَحَدٌ) پڑھے :

روایت میں ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اس رات دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کی صبح جو کہ سال کا پہلا دن ہے روزہ رکھے تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو سال بھر تک اعمالِ خیر بجا لاتا رہا ،وہ شخص اس سال (ہر بلا سے) محفوظ رہے گا اور اگر اسے موت آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہو جائے گا۔

اسی طرح سید ابن طاووس نے محرم کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک مفصل دعا بھی نقل فرمائی ہے اور اگر ممکن ہو تو اس رات کو دعا، نماز اور قرآن پڑھ کر احیاء کیا جائے۔

پہلی محرم کا دن

یہ دن اسلامی سال کا پہلا دن ہے۔ اس کے لئے دو اعمال بیان ہوئے ہیں:

  1. روزہ رکھے، اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا ـسے روایت کی ہے ۔ کہ جو شخص پہلی محرم کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کی دعا قبول فرمائے گا ،جیسے حضرت زکریا ـکی دعا قبول فر مائی تھی ۔
  2. امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہلی محرم کے دن دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد اپنے ہاتھ سوئے آسمان بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے :

اَللّٰھُمَّ َنْتَ الْاِلہُ الْقَدِیمُ، وَھذِہِ سَنَة جَدِیدَة، فَسَْلُکَ فِیھَا الْعِصْمَةَ مِنَ الشَّیْطانِ

اے اللہ! تو معبود قدیمی ہے اور یہ نیا سال ہے جو اب آیا ہے پس اس سال کے دوران میں شیطان سے بچاؤ کا سوال کرتاہوں اس

وَالْقُوَّةَ عَلَی ھذِہِ النَّفْسِ الْاََمَّارَةِ بِالسُّوئِ وَالاشْتِغالَ بِما یُقَرِّبُنِی ِلَیْکَ یَا کَرِیمُ،

نفس پر غلبے کا سوال کرتا ہوں جو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کہ مجھے ان کاموں میں لگا جو مجھے تیرے نزدیک کریں اے مہربان

یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا عِمادَ مَنْ لا عِمادَ لَہُ یَا ذَخِیرَةَ مَنْ لا ذَخِیرَةَ لَہُ یَا حِرْزَ

اے جلالت اور بزرگی کے مالک اے بے سہاروں کے سہارے اے تہی دست لوگوں کے خزانے اے بے کسوں کے نگہبان

مَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَہُ

اے بے بسوں کے فریاد رس اے بے حیثیتوں کی حیثیت اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے اے بہتر آزمائش کرنے والے

یَا حَسَنَ الْبَلائِ یَا عَظِیمَ الرَّجائِ یَا عِزَّ الضُّعَفائِ یَا مُنْقِذَ الْغَرْقیٰ یَا مُنْجِیَ الْھَلْکَیٰ

اے سب سے بڑی امید اے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو تیرانے والے اے مرتوں کو بچانے والے اے نعمت والے

یَا مُنْعِمُ یَا مُجْمِلُ یَا مُفْضِلُ یَا مُحْسِنُ َنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّھارِ

اے جمال والے اے فضل والے اے احسان والے تو وہ ہے جس کو سجدہ کرتے ہیں رات کے اندھیرے دن کے اجالے چاند کی

وَضَوْئُ الْقَمَرِ، وَشُعاعُ الشَّمْسِ، وَدَوِیُّ الْمائِ، وَحَفِیفُ الشَّجَرِ یَا اﷲُ لاَ شَرِیکَ

چاندنیاں سورج کی کرنیں پانی کی روانیاں اور درختوں کی سرسراہٹیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں اے اللہ ہمیں لوگوں نیک گماں

لَکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا خَیْراً مِمَّا یَظُنُّونَ وَاغْفِرْ لَنا مَا لاَ یَعْلَمُونَ وَلاَ تُؤاخِذْنا بِما یَقُولُونَ

سے بھی زیادہ نیک بنا دے لوگ ہم کو اچھا سمجھتے ہیں ہمارے وہ گناہ بخش جن کو وہ نہیں جانتے اور جو کچھ وہ ہمارے بارے میں کہتے ہیں

حَسْبِیَ اﷲُ لاَ ِلہَ ِلاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ، وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِ

اس پرہماری گرفت نہ کر اللہ کافی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے ہمارا ایمان

آمَنَّا بِہِ کُلّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَمَا یَذَّکَّرُ ِلاَّ ُولُوا الْاََلْبابِ، رَبَّنا لا تُزِغْ

ہے کہ سب کچھ ہمارے رب کیطرف سے ہے اور صاحبان عقل کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا اے ہمارے رب ہمارے دلوں

قُلُوبَنا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنا وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً ِنَّکَ َنْتَ الْوَھَّابُ ۔

کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ ہمیں تو نے ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے ۔

شیخ طوسی نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک امساک کرے یعنی کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے۔ سید نے پورے ماہ محرم کے روزے (سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے)رکھنے کی فضیلت بھی لکھی ہے اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha